mohd rashid khan nadwi, rashid khan nadwi, hama rang, rashid nadwi
اردو کے نوجوان صحافی و ادیب محمد راشد خان ندوی از-ڈاکٹر مجاہد الاسلام لکھنؤ کو علم و ادب اور صحافت کے گہوارے کی حیثیت حاصل ہے۔یہاں ایسے ایسے ہنرمند اور باکمالوں نے اپنی فن کاری اور جدت طرازی کے نمونے پیش کیے ہیں جن کی گونج چہار دانگِ عالم میں سنی گئی۔ محمد راشد خان ندوی کا شمار ان صاحبِ فکر صحافیوں میں کیا جائے گا جنھوں نے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو اداکرتے ہوئے لکھنؤ کے باکمالوں کو تاریخ کے اوراق میں محفوظ کرنے کا بھی فریضہ انجام دیا۔ فی الوقت راقم السطور کے پیش نظر محمد راشد خان ندوی کی ایک ایسی ہی دستاویزی تصنیف ’ہمہ رنگ‘کا مسودہ ہے، جسے دیکھ کر اہلِ لکھنؤ کی اپنی تاریخ کو سہیج کر رکھنے کے میلان کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔ محمد راشد خان ندوی کو اس بات کا تفوق حاصل ہے کہ انھوں نے دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصری علوم کی طرف بھی رخ کیا اور اس کے حصول کے لئے کالج اور یونیورسٹیوں کے فضلاء کے سامنے زانوئے تلمذ بھی تہ کیا ہے۔ اس کی وجہ سے ان کی تحریریں مجمع الصفات کی حامل ہوگئی ہیں۔اپنے زمانہ طالب علمی سے ہی وہ اخبارات و رسائل میں شائع ہونے لگے تھے اورروزی روٹی کی فکر کی عمر کو پہنچے ...