آزاد ہندوستان میں مسلمانوں کی تعلیمی پیش رفت Azad hindustan me musalmanon ki taalimi pesh raft
آزاد ہندوستان میں مسلمانوں کی تعلیمی پیش رفت از- محمد راشد خان ندوی برطانوی تسلط سے ہمارے ملک ہندوستان کی آزادی کے بعدیہاں آباد مختلف قوموں نے اپنی اپنی سطح پر ملک کی ترقی کے لیے کام کرنا شروع کردیااور مجموعی طور پر ہر طبقہ نے اپنی ذمہ داریوں کو بحسن و خوبی ادا کرنے کی کوشش کی جس کا کسی نہ کسی سطح پر ملک کی ترقی و خوشحالی میں اہم رول رہا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمارا ہندوستان ایک کثیر لسانی، کثیر تہذیبی اور کثیر مذاہب والا ملک ہے اور سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہاں سب لوگ مل جل کر، ہم آہنگی و محبت اور بھائی چارہ کے ساتھ رہتے ہیں۔ آئین نے بھی اس کی بھرپور آزادی دی ہے اور عملی طور پر سماج بھی امن و اتحاد، بھائی چارہ و یگانگت کا مزاج رکھتا ہے جس کی شہرت پوری دنیا میں ہے۔ اس ملک میں تعمیری کردار ادا کرنے میں جہاں ہندو قوم آگے آئی تو وہیں سکھ، جین، مسلمان اور عیسائیوں نے بھی اپنی اپنی ذمہ داریاں پوری ایمانداری کے ساتھ ادا کیں اور آج بھی اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں مصروف ہیں۔ جب ملک انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہوا تو اس وقت یہاں کی تعلیمی شرح صرف 12فیصد تھی، اور اب جب کہ ملک کو آزاد ہو...